نئی دہلی،03 /ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وزیر ریل پیوش گوئل نے گزشتہ سال 18 جون 2018 کو بزنس اسٹینڈرڈ کو دیے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 2019 کی آخری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح 10 فیصد ہو جائے گی۔ اس کے بعد اسی سال 5 فروری کو اکنومک ٹائمز سے پیوش گوئل نے کہا تھا کہ مالی سال 20 میں 7.5 فیصد جی ڈی پی رہنے کی امید ہے۔ایک سال میں پیوش گوئل نے خود ہی جی ڈی پی میں 2.5 فیصد کی کمی کر دی۔اصلی جی ڈی پی تواور 2.5 فیصد کم ہو گئی۔یعنی جتنا ایک سال پہلے کہا اس کا نصف ہو گیا۔2019 کے آخری سہ ماہی میں کسی نے 10 فیصد جی ڈی پی دیکھی؟ 2020 کی پہلی سہ ماہی میں 5 ہو گئی ہے۔جی ڈی پی آج 5 ہے تو کل 7 ہو سکتی ہے لیکن بیانات سے کس طرح لوگوں کو بندر بنایا جا رہا ہے آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔اسی طرح نوٹ بندی کے وقت جی ڈی پی کو لے کر دیے گئے بیانات کو دیکھئے۔اس وقت بہترنتائج کے نام پر جو بھی کہا گیا پورا نہیں ہوا۔جو تھوڑے وقت کے لئے کچھ ہوا وہ بغیر نوٹ بندی کے بھی ہو سکتا تھا۔پوری کوشش ہی یہی ہوتی ہے کہ آج کی ہیڈلان مینج کرو۔ بڑی بات کرو جس سے مسلسل لوگ فرضی امید میں رہیں۔امید کے نام پر ان کی مہم جوئی پر پردہ ڈالو۔اب کوئی نہیں پوچھے گا کہ دس فیصد جی ڈی پی آنے کے آثار کیا ہیں؟ پہلے تو گوئل صاحب گرافکس چارٹ بناکر بتا رہے تھے۔پانچ فیصد کو لے کر بھی چارٹ بنا دیتے۔ اب ان کی ٹیم کوئی چارٹ نہیں بنائے گی یا بنائے گی تو ثابت کرنے کے لئے کہ کس طرح ہم چین سے آگے ہیں۔چین کے فیل کرنے سے ہندوستان کو ٹاپر بتا رہے ہیں۔